نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
آج سے چند ہفتے پہلے میں سٹاپ پر کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا کہ سگنل کے پاس ایک گاڑ ی آ کر رکی، اس کے شیشے کھلے ، جوس کا خالی ڈبہ اور چپس کا ریپر زمین پر آ کر گرے۔ سگنل کھلنے کے بعد گاڑ ی تو آگے نکل گئی لیکن میں کچھ سوچنے پر مجبور ہو گيا کیونکہ جب بھی میں پاکستان کے چھوٹے شہروں میں گندگی کے ڈھیر دیکھتا تو یہ خیال آتا کہ ان شہروں میں چونکہ ناخواندگی کی شرح زیادہ ہے ، اس لیے یہ حالت ہے ۔ لیکن کالجوں کے شہر لا ہور کی اہم شاہراہ پر کوئی ایسی حرکت کرے گا یہ دیکھ کر مجھے حیرت انگیز دکھ ہوا۔ اس طرح کے واقعات بھی اکثر دیکھنے میں آئے کہ ایک معروف یونیورسٹی کی طالبہ نے سافٹ ڈرنک پیا اور خالی بوتل زمین پر پھینک دی۔ خوب صورت سڑ کوں پر جگہ جگہ ریپرز، کاغذ، پولی تھن بیگ عام دکھائی دیتے ہیں ۔ گندگی صرف سڑ کوں اور چورا ہوں پر نہیں بلکہ دکانوں پر بھی نظر آئے گی۔ خصوصاً ان دکانوں پر جہاں کھانے پینے کی اشیا ملتی ہیں ، چوہے ، مکھیاں اور مچھر عام دکھائی دیتے ہیں ۔ سوائے اُن بڑ ے ریسٹورنٹس کے جو گوروں کی ہدایات پر چلتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہمارا مذہب نہیں جو کہتا ہے کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ ۔ کیا یہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ نہیں جو ہمیں باوضو اور صاف ستھرا رہنے کی ہدایت کرتا ہے ۔ ہم ہمیشہ اپنے سیاستدانوں کے خلاف بولتے رہتے ہیں ۔ کیا یہ ان کا کام ہے کہ وہ عوام کو صاف ستھرے باتھ روم مہیا کریں ، کیا یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جگہ جگہ سے مختلف اشیا کے ریپرز اٹھاتی پھرے ۔ اپنے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہماری ذاتی ذمہ داری ہے ۔ میڈیا ہر اچھی بری چیز دکھاتا ہے لیکن ایک بھی ایسا پروگرام دیکھنے کو نہیں ملتا جو ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی ہدایات پر مشتمل ہو۔ کالجز میں ڈرامہ سوسائٹی، میوزک اور سپورٹس سوسائٹیز ہیں لیکن صفائی ستھرائی کے لیے کچھ بھی نہیں ۔
ڈبلیو۔ ای ۔ڈی کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 80% بیماریاں بالواسطہ یا بلا واسطہ پانی کی نکاسی کا صحیح انتظام نہ ہونے اور گندگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں ۔
کراچی میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے میں ایک تنظیم نے مہم چلائی جس کا نام Week for citizen رکھا گیا۔ ایک دفعہ اس تنظیم نے ایک ہفتے علاقے کو 6000 ٹن کوڑ ے سے پاک کیا اور ہزاروں درخت لگائے گئے ۔ اس طرح کی مہم ہم بھی اپنے علاقوں میں کامیابی سے چلا سکتے ہیں ۔ اگر مندرجہ ذیل نکات کو مد نظر رکھیں :
1۔ سب سے پہلے اپنے ارد گرد کے ہمسایوں اور دوستوں کو اس منصوبے سے آگاہ کریں اورایک میٹنگ کا انتظام کریں ۔
2۔ انھیں خوب صورت اور صاف ستھرے ماحول کی اہمیت کا احساس دلائیں ۔
3۔ ایک ذمہ دار انسان کو سربراہ بنا ئیں ۔
4۔ علاقے سے کوڑ ا کرکٹ اکٹھا کرنے کے لیے کسی خا کروب کو ما ہوار تنخواہ پر رکھ لیں اور اس میں محلے کا ہر فرد برابر کا حصہ ادا کرے ۔
5۔ کوڑ ا کرکٹ کو مناسب جگہ ٹھکانے لگانے کا انتظام کرائیں ۔
6۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ اور اہم کام کرنے والے کو انعام و ا کرام سے بھی نوازا جا سکتا ہے ۔
ان نکات پر عمل کر کے ہم اپنے اور ارد گرد کے علاقے کی صفائی ستھرائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ یہی مہم ہم بڑ ے پیمانے پر بھی چلا سکتے ہیں ۔ اس کے لیے صرف ایک دن کی ضرورت ہے ۔ اگر کسی مخصوص دن حکومت کی طرف سے عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور اس دن پاکستان کے ہر گھر کا ہر فرد اپنے گھر اور ارد گرد کے کچھ فٹ علاقے کو صاف کرنے کے بعد کوڑ ے کو گورنمنٹ کے کوڑ ے دانوں میں پھینک دے اور گورنمنٹ اس کوڑ ے کو مناسب جگہ ٹھکانے لگائے تو صرف ایک دن میں پورا پاکستان صاف ستھرا اور خوب صورت ہو سکتا ہے ۔ اس کے لیے صرف تنظیم اور اتحاد کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومت سنجیدگی سے بڑ ے پیمانے پر یہ مہم چلائے تو پاکستان بھی سوئٹزر لینڈ کی طرح خوب صورتی کا شاہکار کہلا سکتا ہے اور کم از کم نصف ایمان کی خوش نصیبی توہم حاصل کر سکتے ہیں