روز کا رونا

قسمت کے ستارے قید میں ہیں، سب درد کے مارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
کیوں چوروں اور وڈیروں کو ! ہم اپنا رہبر مانتے ہیں
ان چودھریوں ، سرداروں کو ، ! ہم دست ـ مسیحا جانتے ہیں
فرعون ہیں یہ نمرود ہیں یہ ، ہم خوب انہیں پہچانتے ہیں
پھر خود کو دھوکہ دیتے ہیں ، ان سے امیدیں باندھتے ہیں
ہیں سالوں سے آزاد مگر! کیوں ذہن ہمارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
اسلام کے نام کو لے لے کر، مذھب والوں نے لوٹا ہے
پھر اسی کو رہبر مان لیا ، جو ہم میں سب سے جھوٹا ہے
یوں رفتہ رفتہ ہاتھوں سے ، سچائی کا دامن چھوٹا ہے
اب کوئی نہیں اپنا یارو ! الله بھی ہم سے روٹھا ہے
جب ہی تو ہم پہ فضل وکرم ! رحمت کے اشارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
ہم ملک میں اپنی مسجد میں ، ہاتھوں سے مسلماں کو ماریں
امریکا میں ، افریقہ میں ، اسلام کے جھنڈوں کو گا ڑیں
ہر علم و ہنر میں پیچھے ہیں ، کردار میں ہم سب سے ہاریں
ہاں جھوٹ میں سب سے آگے ہیں ، اس کھیل میں ہم سب کو ماریں
ہے جہل کی پٹی آنکھوں پر! اور علم کے دھارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
پھر آنکھ مچولی ہم کھیلیں ، پھر ظلم کو خود ہی ہم جھیلیں
کچرے کے ڈھیر سے خوشبو کی ، جھوٹی امیدوں سے بہلیں
کیوں جھوٹے وعدے ، سپنوں کے ، بےکار کھلونوں سے کھیلیں
پھر جھوٹے سیاست دانوں کی خاطر ہم کیوں بھر دیں جیلیں
ہم خود ہی اپنے قاتل ہیں ، ہم خود ہی سارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
اب باری ہے اس ظالم کی ، جو اب تک ظلم نہ کر پایا
اب باری ہے اس قاتل کی ، معصوم جو اب تک کہلایا
اس چور لٹیرے کی باری ! جو اب تک جیب نہ بھر پایا
اس رکھوالے کی باری ہے ، جو لوٹ چلے گا سرمایا
ہیں قفل ہمارے ذہنوں پر! کیوں سوچ کے دھارے قید میں ہیں ؟
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
اٹھیں ! زنجیروں کو توڑیں ، اور وقت کے دھاروں کو موڑیں
اک عام سے رہبر کو چن لیں ، سرمایہ داروں کو چھوڑیں
دیوار گرا دیں نفرت کی ، ہر دل کو محبت سے جوڑیں
ہم وقت سے کتنے پیچھے ہیں ، مطرب اٹھو ! مل کر دوڑیں
سوچیں ہم نصف صدی سے کیوں ! بے حس ہیں، سارے قید میں ہیں
ہم اب تک پیارے قید میں ہیں ، ہم اب تک پیارے قید میں ہیں
ڈاکٹر سکندر شیخ مطرب
٦ دسمبر ١٩٩٧ ، شکاگو ، امریکہ