اردو غزل

جہاں حالی نے غزل پر کڑی تنقید کی ہے وہاں کچھ اور اہل_علم جن میں جوش صاحب بھی شامل ہیں، نے غزل پر گوناگوں اعتراض کیے- عظمت لله خان اسے نیم وحشیانہ صنف سخن قرار دیۓ بیٹھے ہیں- لیکن یہ حقیقت ہے کہ اردو کلاسیکی شاعری کا ایک بڑا حصہ غزل ہی کی شاعری پر مشتمل رہا ہے- حالی پہلے شخص ہیں جنہوں نے غزل کے خلاف بات کی- جوش غزل میں متضاد رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ غزل میں آمد سے زیادہ آورد پائی جاتی ہے- اس کے باوجود ان دونوں صاحبان نے غزل لکھی اور خوب لکھی-
اپنی تمام تر اصلاح پسندی اور ادب برائے مقصدیت کے باوجود حالی کا غزل کا شاعر کبھی کبھی باہر نکل پڑتا ہے- یہ اشعار آپکو میر و غالب کی یاد دلا دیں گے-
رنج اور رنج بھی تنہائی کا
وقت پہنچا مری رسوائی کا
تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلہ
کس کو دعوی ہے شکیبائی کا
قلق اور دل کا سوا ہو گیا
دلاسا تمہارا بلا ہوگیا
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا
سماں کل کا رہ رہ کے آتا ہے یاد
ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہوگیا
اور جوش صاحب یوں غزل سرا ہوتے ہیں
برق سی اک گرائی جاتی ہے
یوں بھی صورت دکھائی جاتی ہے
لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں انھیں
لاش میری اٹھائی جاتی ہے
تم نہ دیکھو کہ میرے چہرہ پر
ایک تمنا سی پائی جاتی ہے
تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے
انھیں اس کی نہیں پروا کوئی مرتا ہے مرجائے
پریشان بال کرتے ہیں انھیں شوخی سے مطلب ہے
بکھرتا ہے اگر شیرازہ عالم، بکھر جائے
حیات_دائمی کی لہر سے اس زندگانی میں
اگرمرنے سے پہلے بن پڑے تو جوش مرجائے